3 مارچ 2026 - 02:11
حصۂ دوئم | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں شہید ہو گئے۔ اسی مناسبت سے رہبر انقلاب کے حالات زندگی پر مشتمل رپورٹ پیش خدمت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں جام شہادت نوش کر گئے۔  

۔۔۔ حجت الاسلام والمسلمین ہاشمی رفسنجانی اس سلسلے میں کہتے ہیں:

"مجھے ایک عینی شاہد کے طور پر کہنا چاہئے کہ تقریباً سنہ 1959 یا 60ع‍ سے، ـ جب سے میں ان کے ساتھ تھا اور ساتھ دروس میں شرکت کرتے تھے اور مباحثے کرتے تھے، بہت سے افراد جو آج ہمارے درمیان ہیں، اور ان کے اجتہاد میں کوئی بھی شک و تذبذب کا شکار نہیں ہے، ان دنوں امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) اگر ان سے زیادہ عالم و فقیہ نہیں تھے، تو ان سے کم بھی نہیں تھے۔ آپ درس کو خوب سمجھتے تھے اور خوب استنتاج کرتے تھے (اور نتیجہ اخذ کرتے تھے)، اور حالیہ ایام تک بھی ـ جدوجہد کے دوران ـ بھی مطالعہ، فقہی فعالیت اور درس کو فراموش نہيں کرتے تھے"۔

درس و تدریس سے آپ کا اشتیاق اس حد تک تھا کہ جب صدارت کے دوسرے دور میں حوزہ علمیہ قم کے بعض فضلاء نے ان سے پوچھا کہ "صدارت کا دور اختتام پذیر ہونے کے بعد کیا ارادہ ہے؟" تو آپ نے فرمایا تھا: "

"إن شاء اللہ قم آؤں گا اور اس کام (درس و تدریس) میں مصروف ہوجاؤں گا جس کا عرصے سے انتظآر کررہا ہوں"۔

تألیفات اور کاوشیں

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کی تألیفات و تصنیفات بکثرت ہیں جن میں کچھ مطبوعہ کتب کی فہرست حسب ذیل ہے:

- کتاب الجہاد (موصوف کا درس خارج)

- مصری عالم دین سید محمد قطب کی کتاب "‏تفسیر فی ظلال القرآن" کا ترجمہ

- چہار کتاب اصلی علم رجال (علم رجال کی چار بنیادی کتابیں)

- پاسخ بہ سؤالات (سوالات کے جوابات)

- قبسات النور (امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کے کلام کا ایک مجموعہ)

- پرسش و پاسخ (سوال و جواب) (پانچ مجلدات)

- دُرَرُ الفوائد فی اجوبۃ القائد

- پژوہشی در زندگی امام سجاد (علیہ السلام) (امام سجاد علیہ السلام کی حیات طیبہ کے بارے میں ایک تحقیق)

- آیندہ در قلمرو اسلام (مستقبل اسلام کی قلمرو میں)؛ یہ سید قطب کی کتاب "المستقبل لہذا لدین" کا فارسی ترجمہ ہے۔

- پیرامون عزاداری عاشورا (بسلسلۂ عزاداری عاشورا)

- ادعانامہ علیہ تمدن غرب (مغربی تہذیب کے خلاف دعوی) یہ سید قطب کی کتاب "الاسلام الاسلام ومشكلات الحضارة" کا ترجمہ ہے۔

- پیشوائے صادق (علیہ السلام)

- از ژرفای نماز (نماز کی گہرائیوں سے)

- رسالہ اجوبۃ الاستفتائات (دو مجلدات)

- انوار ولایت

- حکومت در اسلام

- بازگشت بہ نہج البلاغہ (نہج البلاغہ کی طرف واپسی)

- حدیث وحدت

- بحثی در نبوت

- خط امام (مکتب امام خمینی [قُدِّسَ سِرُّہ] کا مکتب)

- درس اخلاق

- فریاد مظلومیت

- درست فہمیدن اسلام

- کوثر ولایت

- درس ہایی از نہج البلاغہ (نہج البلاغہ سے کچھ دروس)

- گزارشی از سابقۂ ‏تاریخی و اوضاع کنونی حوزۂ ‏علمیۂ ‏مشہد (حوزۂ علمیۂ مشہد کے پس منظر اور موجودہ صورت حال کا رپورتاژ)

- در مکتب جمعہ

- دیدگاہ ہا (آراء و نظریات)

- گروہ ہای معارض در نہضت ہای انبیا و در انقلاب اسلامی (انبیاء کی تحریکوں میں مخالف جماعتیں، اور اسلامی انقلاب میں)

- راہ امام راہ ما (امام خمینی کا راستہ ہمارا راستہ)

- رسالت حوزہ (حوزہ علمیہ کے فرائض)

- گفتاری در باب صبر

- رسالت انقلابی نسل جوان، روحانی و روشنفکر (نسل جوان، علماء اور دانشوروں کا انقلابی فریضہ)

- گفتاری در وحدت و تحزّب (ایک بات وحدت اور حزبی رجحان کے بارے میں)

- روح توحید نفی عبودیت غیر خدا (توحید کی روح، غیر اللہ کی بندگی کی نفی)

- گفتاری در باب حکومت علوی (ایک بات حکومت علویہ کے بارے میں)

- سخن آفتاب : امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کے اقوال

- مبرم ترین وظایف دانشجویان در مرحلۂ ‏کنونی انقلاب (انقلاب کے موجودہ دور میں طلبہ کی نہایت فوری ذمہ داریاں)

- جلوہ آفتاب: امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کے بیانات

- سیری در زندگی امام صادق (علیہ السلام) (حیات امام صادق علیہ السلام کی سیر)

- شخصیت سیاسی حضرت رضا (علیہ السلام)

- مسلمانان در نہضت ہندوستان (ہندوستان کی تحریک میں مسلمانوں کا کردار)

- صلح امام حسن (علیہ السلام) پر شکوہ ترین نرمش قہرمانانۂ ‏تاریخ (صلح امام حسین علیہ السلام، شاندارترین بہادرانہ لچک) [1]

- منافقین دشمنان حکومت اسلامی (منافقین، حکومت اسلامی کے دشمن)

- ضرورت تحول در حوزہ ہای علمیہ (حوزات علمیہ میں دیگرگونی کی ضرورت)

- منشور تداوم انقلاب (انقلاب کے تسلسل کا منشور)

- طرح کلی اندیشۂ ‏اسلامی در قرآن (اسلامی فکر کا مجموعی خاکہ قرآن کی روشنی میں)

- ولایت

- عطر شہادت

- ہشدارہای مقام معظم رہبری (رہبر معظم کے انتباہات)

- عنصر مبارزہ در زندگی ائمہ (علیہم السلام) (ائمۂ علیہم السلام کی حیات میں جدوجہد کا عنصر)

- ہنر از دیدگاہ مقام معظم رہبری (فن [آرٹ] رہبر معظم کی نگاہ میں)

- ہنر ہشتم (آٹھواں فن)

جدوجہد اور ذمہ داریاں

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) ایک شجاع اور متقی مجاہد ہیں جن کی اپنی پربرکت زندگی کی پوری مدت قلم، سخن اور اسلحے کے ذریعے جہاد، پر محیط ہے؛ اور ـ بطور خاص سنہ 1962ع‍‍ کے بعد، جب امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے اپنی عظیم اسلامی تحریک کا آغاز کیا ـ ایک لمحہ بھی جہاد کی راہ سے پیچھے نہیں رہے ہیں۔

اس طویل المدت جہاد اور جدوجہد کی شرح و تفصیل بیان کرنے کے لئے کئی کتب تألیف کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس یہاں اختصار کے ساتھ کچھ اشارے پیش کررہے ہیں:

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) خود اس سلسلے میں فرماتے ہيں:

"میدان میں اترنے اور سیاسی مسائل میں وارد ہونے کے سلسلے میں، سنہ 1952-53ع‍ میں سننے میں آیا کہ شہید نواب صفوی مشہد آئے ہیں اور ایک نہانی کشش نے مجھے ان کی طرف راغب کیا اور بہت مشتاق ہؤا کہ نواب کو دیکھ لوں، کسی نے کہا کہ نواب مدرسۂ سلیمان خان آرہے ہیں جبکہ میں خود اس مدرسے کا طالبعلم تھا اور اس دن مدرسۂ سلیمان خان میں نواب صفوی کی آمد میری زندگی کے ناقابل فراموش واقعات میں سے ایک ہے۔

جب وہ فدائیان اسلام کے ایک گروہ کے ہمراہ خاص قسم کی کھال سے بنی ٹوپیاں پہن کر مدرسے میں داخل ہوئے اور کھڑے ہوکر زوردار نعروں کے ساتھ اپنے خطاب کا آغاز کیا۔

ان کے خطاب کا مضمون بھی یہ تھا کہ اسلام کو زندہ ہونا چاہئے اور اسلام ہی کو حکومت کرنا چاہئے اور اس سلسلے میں انھوں نے جرأتمندانہ انداز میں شاہ، برطانیہ اور سرکاری حکام پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور کہا: یہ حکام مسلمان نہيں ہیں۔

میں جو پہلی بار یہ باتیں نواب صفوی کی زبان سے سن رہا تھا، ان کی باتیں میرے دل میں بیٹھ گئیں اس قدر کہ جی چاہتا تھا ہمیشہ ان کے ساتھ رہوں۔ اسی مقام پر اعلان ہؤا کہ "کل نواب صفویہ مہدیہ سے مدرسۂ نواب جائیں گے" اور دوسرے روز نواب صفوی اجتماع کی شکل میں مدرسۂ نواب کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ لوگوں سے مخاطب ہوکر بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے "اے غیرتمند مسلمان بھائی، اسلام کو حکمران ہونا چاہئے"۔ بالآخر مدرسۂ نواب پہنچے اور وہاں بھی پوری طاقت سے ایک مفصل اور احساس بھرا خطاب کیا اور بعدازاں نماز کا وقت ہؤا تو انہیں امامت کی پیشکش ہوئی جو انھوں نے قبول کی اور ہم نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ نواب صفوی مشہد سے چلے گئے تو عرصے تک ہمیں ان کی خبر نہیں تھی یہاں تک کہ ان کی شہادت کی خبر مشہد پہنچی۔ ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوگئے تھے، اور مدرسے کے صحن میں نعرہ بازی کررہے تھے اور شاہ کی بدگوئی کررہے تھے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مرحوم آیت اللہ الحاج ہاشم قزوینی مشہد کے واحد عالم دین تھے جنہوں نے حریت، عظمت اور جوانمردی کا ثبوت دیتے ہوئے نواب کی شہادت پر رد عمل ظاہر کیا اور اپنے درس کی مجلس میں حکمرانوں کے ہاتھوں شہید نواب صفوی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے سلسلے میں حکومت پر شدید تنقید کی اور ان کی شہادت پر شدید صدمے کا اظہار کررہے تھے۔ انھوں نے کہا: ہمارے ملک کی صورت حال یہ ہوئی ہے کہ فرزند رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو حقائق کے اظہار کی پاداش میں قتل کردیتے ہیں!! چنانچہ اسی وقت سے انقلاب اسلامی کے محرکات میرے وجود میں نواب صفوی کے ذریعے معرض وجود میں آچکے تھے۔ مجھے بالکل شک نہیں ہے کہ پہلی آگ شہید نواب نے ہمارے دل میں سلگائی۔ چنانچہ شہید نواب سے اثر پذیری کی بنا پر سنہ 1955 یا 1965ع‍ میں ہی ہماری جدوجہد کا آغاز ہوچکا اور وہ یوں کہ حکومت کی طرف سے "فرُّخ" نامی گورنر مشہد میں تعینات ہؤا اور یہ شخص کسی صورت میں بھی دینی مظاہر اور ضوابط کا احترام نہیں کرتا تھا؛ منجملہ یہ کہ ماہ محرم الحرام کا معمول یہ تھا کہ مشہد میں سینما ہال بند کئے جاتے تھے۔ ابتداء میں یہ بندش 13 اور 14 محرم تک تھی اور جب عوام نے احتجاج کیا تو 20 محرم تک سینما ہال بند ہوئے۔ ہم نے بیٹھ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں ایک اعلامیہ لکھا اور ڈاک کے ذریعے مختلف مقامات کی طرف روانہ کیا"۔

جدوجہد، سنہ 1962 کے بعد

حوزہ علمیۂ قم سنہ 1962ع‍ میں امام امت (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی ندا پر اٹھ کھڑا ہؤا اور علم و تقوی اور جہاد و شہادت کے مرکز میں نیا جوش اور ولولہ معرض وجود میں آیا۔

علماء اور طلاب خالصانہ کوشش اور کامل جوانمردی کے ساتھ، امام اور دوسرے مراجع تقلید کے فرامین و ارشادات کو ملک کے مختلف علاقوں میں منتقل کرتے تھے اور ان کے اعلامیوں کو حزب اللہی عوامی قوتوں کے ذریعے چھپوا کر تقسیم کرتے تھے۔ یہ جوش و ولولہ اور یہ جدوجہد دوسرے حوزات علمیہ کو بھی منتقل ہوئی جن میں مشہد مقدس کا اہم ترین اور طاقتور حوزہ علمیہ بھی شامل تھا۔

آپ نے اس سلسلے میں بہت تعمیری اور عظیم کردار ادا کیا اور قم میں اپنی علمی و انقلابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مشہد کے علماء اور طلبہ کے ساتھ بھی اپنا رابطہ مستحکم کیا اور کوشش کی کہ خراسان کے دوسرے علماء کی فعالیت سے استفادہ کرکے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ اور بہتر انداز سے علمی اور معرفتی لحاظ سے تیار کرے۔

آپ کی یہ فعالیت اس قدر مؤثر اور نمایاں چشمگیر تھا کہ سنہ 1963 میں آپ کو امام خمینی (قدس رہ) کی طرف سے فریضہ سونپ دیا گیا کہ تین پیغامات کو مشہد منتقل کریں۔ ان تین پیغامات کہ تعلق اس تقدیر ساز محرم سے تھا جس میں پانچ جون کا واقعہ رونما ہؤا:

پہلا پیغام علماء، خطباء، اہل منبر اور مذہبی انجمنوں کے سربراہوں کے نام تھا جس میں اسرائیل کو مورد تنقید ٹہرانے اور فیضیہ کے واقعے کی تشریح پر زور دیا گیا تھا۔

دوسرا پیغام آیت اللہ العظمیٰ میلانی کے اور تیسرا پیغام مشہد کیے ایک دوسرے عالم دین کے نام تھا جن میں سات محرم الحرام سنہ 1383ھ‍ سے شہنشاہی حکومت کے خلاف اعلانیہ جدوجہد کے آغاز پر تاکید ہوئی تھی۔ 

یہ مشن بخوبی سرانجام کو پہنچا اور پیغامات کے بموجب صوبہ خراسان میں شروع ہونے والی جدوجہد میں شدت آئی۔

آپ نے قم اور خراسان کے درمیان مختلف شہروں میں مختصر قیام کرکے ان پیغامات کے کچھ اقتباسات منبر سے عوام کے لئے بیان کئے اور ہر جگہ قیام و انقلاب کا بیج بو دیا۔ بعدازاں آپ نے بعض متعہد اور انقلابی دوستوں کے ساتھ طے کیا کہ صوبہ خراسان کے مختلف شہروں اور قصبوں کا دورہ کریں اور جس طرح کہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے مقرر فرمایا تھا سات محرم سے پہلے پہلے حالات حاضرہ، سیاسی اور معاشرتی صورت حال، فیضیہ کے واقعے اور حکومت کے خفیہ منصوبوں کو عوام کے لئے واضح کریں۔ اور اس کا سبب یہ تھا کہ ریاستی اور صوبائی انجمنوں کے مسئلے اور شاہ کے جعلی استصواب رائے، اسلام اور علمائے اسلام کے ساتھ اس کی شدید دشمنی، اور فیضیہ پر حملے کے المیے نیز 1963 کے نوروز کے ایام میں امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے اعلان کردہ عام سوگ کے بعد شاہی ظلم کی حکمرانی کے خلاف ایک عمومی انقلابی تحریک کے اسباب فراہم ہورہے تھے۔

سنہ 1963ع‍ کے محرم الحرام نے بہترین موقع فراہم کیا؛ چنانچہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) اور علمائے اعلام نے اس سے بھرپور استفادہ کیا۔ طے یہ پایا تھا کہ یکم تا ششم محرم تک عام اور اصولی مسائل بیان کئے جائیں اور سات محرم کے بعد بنیادی مسائل اور حقائق پوری صراحت کے ساتھ عوام کے لئے بیان کئے جائیں تا کہ جھوٹی اصلاح پسندی کا نقاب شاہ کے نفرت انگیز چہرے سے ہٹ جائے اور عوام اس کو اچھی طرح پہچان لیں۔

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کے حصے میں ضلع بیرجند اور بیرجند کا شہر آیا جو شہنشاہیت کی قوت کا مرکز اور عُرفاً اس وقت کے وزیر اعظم اسداللہ عَلَم کی جاگیر سمجھا جاتا تھا۔

آپ نے تین محرم سے بیرجند میں مجالس کا آغاز کیا اور عوام کو آگاہ کرکے تحریک کا آغاز کیا۔ اور سات محرم کو ـ جبکہ عوام کی کثیر تعداد نے مجلس میں شرکت کی تھی ـ مدرسۂ فیضیہ کے واقعے کو نہایت ولولہ انگیز انداز سے نہایت مؤثر بیان کے ساتھ بیان کیا اور عوام کا گریہ و بکاء دیدنی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 


[1]۔ Heroic flexibility

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha